اسپین کا اٹلی کے شہریوں پر سرحدی چیکنگ کا اعلان، سیوتا میں تارکین وطن کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کرگیا

میڈرڈ(ویب ڈیسک): اسپین اور اٹلی کے درمیان تارکین وطن کے معاملے پر سفارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد اسپین نے اٹلی سے آنے والے مسافروں پر سرحدی چیکنگ شروع کردی ہے۔
اسپین کی جانب سے یہ اقدام اٹلی کے اس فیصلے کے جواب میں کیا گیا ہے جس کے تحت روم نے اسپین سے آنے والے شہریوں کے لیے فضائی اور بحری سرحدی چیکنگ نافذ کی تھی۔
ہسپانوی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، نئی پابندیاں رات گئے نافذ ہونے کے بعد بارسلونا ایئرپورٹ پہنچنے والے اطالوی شہریوں کو پولیس کی جانب سے بے ترتیب چیکنگ کا سامنا کرنا پڑا۔
ہسپانوی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سرحدی چیکنگ کم از کم ایک ماہ تک جاری رہے گی۔
تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے اسپین کی جانب سے دی گئی اس وارننگ کو مسترد کردیا کہ اگر روم نے اپنی پابندیاں ختم نہ کیں تو میڈرڈ اپنے شہریوں کے مفادات اور وقار کے تحفظ کے لیے ’’موزوں اقدامات‘‘ کرے گا۔
اٹلی نے یکم اگست سے اسپین کے شہریوں کے لیے فضائی اور بحری راستوں پر سرحدی چیکنگ شروع کی تھی۔ اطالوی حکومت نے یہ فیصلہ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر شدید تنقید کے بعد کیا۔
اسپین اور اٹلی کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ گزشتہ ماہ مراکش سے اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوتا میں تقریباً 72 ہزار تارکین وطن کی اچانک آمد بنی۔
اگرچہ زیادہ تر تارکین وطن بعد ازاں واپس چلے گئے، تاہم ہسپانوی اور مراکشی حکام کے مطابق اس دوران 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ بعض افراد سمندری رکاوٹ عبور کرنے کی کوشش میں ڈوب گئے جبکہ کچھ بھگدڑ کے دوران کچلے گئے۔
سیوتا میں پیش آنے والے واقعے نے یورپی یونین میں ایک مرتبہ پھر غیر قانونی ہجرت کے معاملے پر بحث کو تیز کردیا ہے۔ یورپی یونین کے بعض رہنماؤں نے ہسپانوی حکومت کی تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد کی ایک وجہ قرار دیا۔
اٹلی سمیت بعض سخت گیر یورپی رہنماؤں نے اسپین کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے عام معافی کی پالیسی پر بھی اعتراض کیا۔ اس پالیسی کے تحت ایسے تارکین وطن کو رہائش اور کام کے اجازت نامے حاصل کرنے کا موقع دیا گیا جو کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں رہ رہے تھے اور رواں سال یکم جنوری سے پہلے ملک میں داخل ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اس پروگرام کے تحت 10 لاکھ سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کرائیں۔
یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں بیشتر شہریوں کو شینگن زون کے تحت رکن ممالک کے درمیان نسبتاً آزادانہ سفر کی سہولت حاصل ہے۔
تاہم یورپی یونین کے قوانین کے مطابق رکن ممالک سنگین سکیورٹی خطرے کی صورت میں عارضی طور پر داخلی سرحدوں پر چیکنگ بحال کرسکتے ہیں۔ ایسی پابندیاں آخری حل کے طور پر اور محدود مدت کے لیے عائد کی جانی چاہئیں۔
دوسری جانب اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی کے دفتر نے جمعہ کو واضح کیا کہ اٹلی کا کم از کم 15 اگست تک اسپین سے سمندری یا فضائی راستے سے آنے والے افراد پر سرحدی چیکنگ ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
اطالوی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ اٹلی قومی سلامتی اور سرحدی کنٹرول کے معاملے پر بیرون ملک سے کسی قسم کا الٹی میٹم یا حکم قبول نہیں کرے گا۔
اٹلی نے مزید کہا کہ اگر سیوتا میں دوبارہ بڑی تعداد میں تارکین وطن کی آمد ہوئی تو وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گا، تاہم ایسا اسی وقت کیا جائے گا جب اسے یقین ہو کہ اٹلی کو سکیورٹی یا دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں اور یورپ کی جانب غیر قانونی تارکین وطن کی نئی لہر نہیں آرہی۔
