12 اگست کو مکمل سورج گرہن، دنیا کے مختلف حصوں میں دکھائی دے گا نایاب فلکیاتی منظر

(ویب ڈیسک)12 اگست 2026 کو مکمل سورج گرہن ہونے جا رہا ہے جس کا دنیا بھر میں فلکیات کے شوقین افراد کو بے صبری سے انتظار ہے۔ اس نایاب فلکیاتی مظاہرے کے دوران چاند سورج اور زمین کے درمیان آ جائے گا اور بعض علاقوں میں سورج کو مکمل طور پر ڈھانپ لے گا، جس کے نتیجے میں دن کے وقت کچھ دیر کے لیے اندھیرا چھا جائے گا۔
مکمل سورج گرہن اس وقت رونما ہوتا ہے جب سورج، چاند اور زمین تقریباً ایک سیدھ میں آ جاتے ہیں اور چاند سورج کے روشن حصے کو مکمل طور پر چھپا لیتا ہے۔ مکمل گرہن کے دوران سورج کی بیرونی فضا، جسے کورونا کہا جاتا ہے، بھی نمایاں ہو سکتی ہے، جو عام حالات میں سورج کی تیز روشنی کے باعث نظر نہیں آتی۔
12 اگست کے سورج گرہن کا مکمل مرحلہ دنیا کے مخصوص علاقوں سے دیکھا جا سکے گا، جن میں گرین لینڈ، آئس لینڈ، شمالی روس اور بحرِ اوقیانوس کے بعض علاقے شامل ہیں۔ یورپ میں اسپین اور پرتگال کے کچھ حصوں سے بھی گرہن کا مشاہدہ ممکن ہوگا، جبکہ دیگر علاقوں میں سورج گرہن جزوی شکل میں دکھائی دے سکتا ہے۔
مکمل گرہن کے دوران آسمان اچانک غیر معمولی طور پر تاریک ہو سکتا ہے اور بعض مقامات پر درجہ حرارت میں بھی عارضی کمی محسوس کی جا سکتی ہے۔ تاہم مکمل سورج گرہن کا مشاہدہ صرف اس محدود راستے میں ممکن ہوتا ہے جہاں چاند کا سایہ زمین پر گرتا ہے۔
پاکستان میں 12 اگست کے مکمل سورج گرہن کا مرکزی راستہ نہیں گزرے گا، اس لیے یہاں سے مکمل سورج گرہن کا منظر دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ مختلف علاقوں میں گرہن کی جزوی صورت نظر آنے یا نہ آنے کا انحصار مقامی افق اور گرہن کے اوقات پر ہوگا۔
ماہرین نے سورج گرہن دیکھنے والے افراد کو آنکھوں کی حفاظت کے لیے خصوصی احتیاط کی ہدایت کی ہے۔ عام دھوپ کے چشمے سورج کو براہِ راست دیکھنے کے لیے محفوظ نہیں ہوتے۔ سورج گرہن کا مشاہدہ کرنے کے لیے باقاعدہ شمسی مشاہداتی چشمے یا مناسب حفاظتی فلٹر استعمال کرنا ضروری ہے، کیونکہ براہِ راست سورج دیکھنے سے آنکھوں کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔
12 اگست 2026 کا مکمل سورج گرہن فلکیات کے شوقین افراد کے لیے ایک اہم اور نایاب موقع ہوگا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپتا ہوا نظر آئے گا۔
