بھارت میں نوجوانوں کے احتجاج نے ’گودی میڈیا‘ پر عدم اعتماد کو نمایاں کردیا

(ویب ڈیسک) بھارت میں گزشتہ ماہ نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران صحافی بھی عوامی غصے اور حملوں کا نشانہ بن گئے، جس سے ملک کے روایتی میڈیا اداروں پر عوام کے بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ملک بھر میں آن لائن ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ تحریک کے تحت ہونے والے مظاہروں میں بعض احتجاجی پوسٹرز پر ٹی وی چینلز کو ’’بھارت کا بدترین دشمن‘‘ قرار دیا گیا، جبکہ مظاہرین نے ایسے میڈیا اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہیں وہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے حامی سمجھتے ہیں۔
احتجاج کے دوران روایتی میڈیا اداروں اور نوجوانوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ بھی واضح ہوا۔ بھارت میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد خبروں کے لیے اب ٹیلی ویژن چینلز کے بجائے سوشل میڈیا اور آزاد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔
نئی دہلی کے جنتر منتر میں احتجاج کرنے والے متعدد طلبہ نے بتایا کہ وہ خبروں کے لیے سوشل میڈیا اور آزاد ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں۔
28 سالہ سافٹ ویئر پروفیشنل سکھجیت نارولا نے کہا کہ نیوز چینلز کو دیکھنا مایوس کن ہے کیونکہ وہ ہر احتجاج کو ’’ملک دشمن‘‘ قرار دیتے ہیں۔
احتجاج کے دوران ٹی وی صحافیوں کو بھی شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ معروف انگریزی نیوز نیٹ ورک ٹائمز ناؤ کے رپورٹر دیو کوٹک نے بتایا کہ نئی دہلی میں ایک مشتعل ہجوم نے پہلے ان پر پانی پھینکا اور بعد ازاں انہیں تھپڑ اور لاتیں ماریں۔
36 سالہ صحافی کے مطابق ان کے اردگرد غصہ بڑھتا جا رہا تھا اور انہیں اپنی جان کا خوف محسوس ہوا۔ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی گردش کرتی رہیں جن میں تھکے ہوئے دیو کوٹک کو سیکیورٹی اہلکاروں کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ مظاہرین ان کا تعاقب کر رہے تھے۔
ٹائمز ناؤ کے تین دیگر صحافیوں کو بھی مبینہ طور پر ہراساں کیا گیا۔ ممبئی میں احتجاج کی براہ راست کوریج کرنے والے زی ٹی وی کے ایک رپورٹر کو بھی مشتعل افراد کی جانب سے نعرے بازی اور طنزیہ جملوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مشرقی شہر پٹنہ میں ایک اور صحافی کو ہجوم کی جانب سے تعاقب کیے جانے کی ویڈیو بھی سامنے آئی۔
ٹائمز نیٹ ورک نے کہا کہ اس کے صحافیوں نے احتجاج کی کوریج ’’مکمل طور پر غیر جانب دارانہ‘‘ انداز میں کی، اس کے باوجود انہیں ’’انتہائی قابل مذمت‘‘ انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ادارے نے کہا کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا جا سکتا۔
میڈیا مبصرین کے مطابق عوامی غصہ میڈیا پر کئی برسوں سے کم ہوتے اعتماد کا نتیجہ ہے۔ معروف بھارتی صحافی رویش کمار نے کہا کہ ’’گودی میڈیا‘‘ کو عوام مخالف اور اپوزیشن مخالف سمجھا جاتا ہے۔
’’گودی‘‘ ہندی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گود کے ہیں اور ناقدین اس اصطلاح کو ایسے میڈیا اداروں کے لیے استعمال کرتے ہیں جن پر حکومت کے قریب ہونے اور صحافت کے نگرانی والے کردار سے دستبردار ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔
رویش کمار کے مطابق ایسے میڈیا اداروں نے اپنی ساکھ خود تباہ کی ہے اور عوام کے حقیقی مطالبات کو سازش قرار دے کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی 2014 میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بھارت میں صحافتی آزادی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ناقدین کے مطابق حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو مقدمات، گرفتاریوں اور حکومتی جماعت کے حامیوں کی جانب سے آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں بھارت 180 ممالک میں 157ویں نمبر پر ہے، جو 2013 کے مقابلے میں 17 درجے کم ہے۔
اپوزیشن رہنما بھی طویل عرصے سے بھارتی نیوز چینلز پر بی جے پی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں، خصوصاً مسلم اقلیت سے متعلق متنازع اور تقسیم پیدا کرنے والی کوریج پر اعتراض کیا جاتا رہا ہے۔
احتجاج کے دوران صورتحال اس قدر کشیدہ ہوگئی کہ بعض ٹی وی صحافیوں نے اپنے اداروں کا نام اور لوگو ظاہر کرنے سے بھی گریز کیا۔ احتجاج میں شریک 30 سالہ شیلندر سنگھ نے کہا کہ صحافیوں نے اپنے مائیک سے لوگو ہٹا دیے تھے کیونکہ نوجوان انہیں نشانہ بنا رہے تھے۔
ایک نجی شعبے کے ملازم نے الزام عائد کیا کہ مرکزی دھارے کا میڈیا حکومت کے سامنے مکمل طور پر جھک چکا ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم نیوز لانڈری کے مینیجنگ ایڈیٹر اتل چورسیا نے روایتی نیوز رومز کے مالی ماڈل کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق کئی میڈیا ادارے اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، جن میں حکومتی اشتہارات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اشتہارات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہے، جس سے میڈیا اداروں کے آزادانہ طور پر کام کرنے کے لیے ضروری ماحول متاثر ہوتا ہے۔
رویش کمار نے تاہم بڑے ٹی وی نیٹ ورکس اور آزاد میڈیا اداروں کے درمیان فرق کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ متبادل میڈیا اور آزاد صحافیوں کو بھی حکومتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق آزاد صحافیوں اور متبادل میڈیا اداروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں، انہیں ’’ملک دشمن‘‘ قرار دیا جاتا ہے اور بعض اوقات انہیں قید بھی کیا جاتا ہے۔
