ٹرمپ کا دعویٰ: امریکا نے وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر میں بڑا حصہ حاصل کر لیا

(ویب دیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے تیل کے وسیع ذخائر میں طویل مدتی اور فیصلہ کن حصہ حاصل کر لیا ہے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا میں سکیورٹی خدشات، جرائم اور پیچیدہ لاجسٹک مسائل کے باعث نجی توانائی کمپنیاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں۔
ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت امریکا وینزویلا کے تقریباً ایک چوتھائی غیر دریافت شدہ تیل کے ذخائر میں کنٹرولنگ حصص حاصل کرے گا۔ حکام کے مطابق ایک نئی مشترکہ آئل کمپنی قائم کی جائے گی جس میں امریکا اکثریتی مالک ہوگا، جبکہ کمپنی کو وینزویلا کے تیل کے میدانوں میں 100 سالہ معاہدے حاصل ہوں گے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر معاہدے کو ’’دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل کا معاہدہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایت پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز اور نجی کاروباری شراکت داروں کے ساتھ مل کر 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی امریکی کنٹرول حاصل کیا ہے۔
معاہدے میں وینزویلا کے اہم نجی کاروباری شراکت دار الیخاندرو بیٹن کورٹ کا کردار بھی نمایاں ہے۔ 46 سالہ بیٹن کورٹ ملک کی دوسری بڑی نجی تیل کمپنی کو کنٹرول کرتے ہیں۔ تاہم مختلف ممالک میں ان کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ سے متعلق تحقیقات ہو چکی ہیں اور سوئٹزرلینڈ میں ان کی گرفتاری کا وارنٹ بھی موجود ہے۔
ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ وینزویلا کے تیل کے شعبے میں امریکی شمولیت سے امریکا میں پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ تاہم ماہرین کے مطابق وینزویلا کی تیل پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اس لیے فوری طور پر امریکی صارفین کو سستے پٹرول کی صورت میں فائدہ ملنے کے امکانات محدود ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں پٹرول کی بلند قیمتیں عوام کے لیے اہم سیاسی مسئلہ بنی ہوئی ہیں اور آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ پر معاشی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
وینزویلا کے تیل کے ذخائر دنیا کے بڑے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں، لیکن طویل عرصے سے جاری سیاسی بحران، پابندیوں، بنیادی ڈھانچے کی خستہ حالی اور سکیورٹی مسائل نے ملک کی تیل کی پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔ امریکی کنٹرول یا بڑے پیمانے پر شمولیت کا یہ منصوبہ خطے کی سیاست اور عالمی توانائی منڈی پر بھی دور رس اثرات ڈال سکتا ہے۔
