لندن میں غزہ کے حق میں ہزاروں افراد کا مظاہرہ، برطانوی حکومت سے اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ

ویب ڈیسک | لندن
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے نئی برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے اور غزہ میں جاری محاصرے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے لندن کی سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نامزد وزیراعظم اینڈی برنہم اسرائیل پر اسلحے کی پابندی عائد کریں اور تل ابیب پر دباؤ ڈالیں کہ وہ غزہ میں فوجی کارروائیاں روکنے اور محاصرہ ختم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ اینڈی برنہم پیر کے روز باضابطہ طور پر برطانیہ کے نئے وزیراعظم کا منصب سنبھالنے والے ہیں۔
برطانیہ میں فلسطین کے سفیر حسام زملط نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ غزہ بحران کے باوجود برطانیہ اور دنیا بھر میں انصاف اور احتساب کے لیے آوازیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں۔ انہوں نے فلسطینی پرچم اٹھائے مظاہرین کے ہمراہ لندن کی سڑکوں پر مارچ کیا۔
غزہ جنگ کے معاملے پر سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کو لیبر پارٹی کے اندر اور باہر شدید تنقید کا سامنا رہا۔ ناقدین کے مطابق اسرائیل پر جنگی جرائم کے الزامات کے باوجود برطانوی حکومت نے اسلحہ فراہمی جاری رکھی، جبکہ اسرائیل کے خلاف کیے گئے اقدامات محدود نوعیت کے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد اینڈی برنہم کو مہنگائی، تعلیمی قرضوں، رہائشی مسائل اور غزہ سے متعلق لیبر پارٹی کی پالیسی پر کارکنوں کی ناراضی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
احتجاجی مارچ میں لیبر پارٹی کے سابق رہنما جیریمی کوربن بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے نئی حکومت سے مطالبہ کیا کہ برطانیہ اسرائیل کی حمایت ختم کرے۔ کوربن نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ لندن میں ہزاروں افراد نئے وزیراعظم کو واضح پیغام دینے کے لیے جمع ہوئے ہیں کہ فلسطین کے معاملے پر خاموش نہیں رہا جائے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ غزہ بحران میں اپنی شمولیت ختم کرے اور فلسطینی عوام کے حقوق اور امن کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
