سیوتا میں تارکین وطن کا احتجاج، اسپین سے مراکش واپس نہ بھیجنے اور پناہ دینے کا مطالبہ

میڈرڈ(ویب ڈیسک): اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوتا میں حال ہی میں داخل ہونے والے سیکڑوں تارکین وطن نے ساحل پر احتجاج کرتے ہوئے اسپین سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں مراکش واپس بھیجنے کے بجائے پناہ دی جائے۔
رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے سیوتا کے ایک معروف ساحلی مقام پر جمع ہوکر اپنی صورتحال کے خلاف آواز بلند کی۔ متعدد افراد نے اسپین کے پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ ان کے ہاتھوں میں ایسے بینرز بھی تھے جن پر ’’ہم مراکش واپس نہیں جانا چاہتے‘‘ اور ’’ہم بھی انسان ہیں‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔
مظاہرین نے ’’ہم تھک چکے ہیں‘‘ اور ’’ہمیں حل چاہیے‘‘ کے نعرے بھی لگائے اور اسپین کے حکام سے مطالبہ کیا کہ انہیں قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔
یہ تارکین وطن ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جو جولائی کے آخر میں بڑی تعداد میں مراکش سے سیوتا میں داخل ہوئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق اس بڑے پیمانے پر سرحدی آمد کے دوران 72 ہزار سے زائد افراد سیوتا پہنچے تھے، تاہم ان میں سے بڑی تعداد بعد میں مراکش واپس چلی گئی۔ تقریباً 5 ہزار سے 8 ہزار افراد اب بھی سیوتا میں موجود ہیں۔
سیوتا میں تارکین وطن کی بڑی تعداد کی موجودگی کے باعث مقامی انتظامیہ اور امدادی نظام پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ کئی تارکین وطن عارضی اور مشکل حالات میں رہ رہے ہیں اور ان کی جانب سے اسپین میں رہنے اور پناہ حاصل کرنے کے مطالبات میں شدت آئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض مراکشی تارکین وطن کی جانب سے دائر کی گئی پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد سیوتا میں موجود دیگر افراد میں بھی مراکش واپسی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اسی صورتحال کے باعث مظاہرین نے اسپین سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی درخواستوں پر انسانی بنیادوں پر غور کیا جائے۔
دوسری جانب اسپین کو سیوتا میں موجود تارکین وطن کے حوالے سے انسانی، انتظامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ حکام کو ایک طرف علاقے میں بنیادی سہولیات اور پناہ گاہوں کا انتظام کرنا ہے جبکہ دوسری جانب غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے افراد کی واپسی کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔
