مہاراشٹر کے بورڈنگ اسکول میں پراسرار واقعات کا خوف، 600 طلبہ نے ادارہ چھوڑ دیا

(ویب ڈیسک): بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ایک سرکاری بورڈنگ اسکول میں چند طالبات کے اچانک غیر معمولی رویے کے بعد خوف اور افواہوں نے ایسی صورتحال پیدا کردی کہ تقریباً 600 طلبہ اسکول چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے گئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 22 جولائی کو ڈوما گاؤں کے سرکاری بورڈنگ اسکول میں پیش آیا، جہاں چار طالبات اچانک بے قابو ہو کر رونے لگیں اور کچھ دیر بعد غیر معمولی انداز میں ہنسنے لگیں۔ واقعے کے بعد اسکول میں یہ افواہ پھیل گئی کہ طالبات پر کسی آسیب یا مافوق الفطرت طاقت کا اثر ہے۔ بعض طالبات نے رات کے وقت پازیب جیسی آوازیں سنائی دینے کا دعویٰ بھی کیا۔
رپورٹس کے مطابق اسکول میں تقریباً 810 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، تاہم خوف اور مختلف افواہوں کے باعث چند ہی روز میں تقریباً 600 طلبہ اسکول چھوڑ گئے۔
اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ماہرین صحت نے ادارے اور ہاسٹل کا معائنہ کیا، تاہم انہیں کسی مافوق الفطرت سرگرمی یا غیر معمولی عنصر کے شواہد نہیں ملے۔ ماہرین نے ان واقعات کو ذہنی دباؤ، خوف اور اجتماعی نفسیاتی کیفیت سے جوڑنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
واقعے کے بعد مقامی آبادی میں بھی مختلف قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔ بعض افراد کا خیال تھا کہ اسکول کی حدود میں موجود مہوا کے درخت سے ارواح وابستہ تھیں اور درخت کاٹنے کے بعد مبینہ طور پر یہ واقعات شروع ہوئے۔
کچھ مقامی لوگوں نے اسکول کے قریب موجود ایک مندر کو نقصان پہنچنے اور ایک قبائلی نوجوان کی موت کو بھی ان واقعات سے جوڑنے کی کوشش کی۔ تاہم حکام نے صورتحال کی بنیادی وجوہات میں خوف، ذہنی دباؤ، توہم پرستی اور مقامی اعتقادات کو اہم عوامل قرار دیا ہے۔
اسکول کے سربراہ سنجے چوہدری کے مطابق ماہرین اور متعلقہ حکام نے طالبات سے ملاقاتیں کی ہیں، ان کی کونسلنگ جاری ہے اور کچھ طلبہ واپس اسکول بھی آ چکے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسکول انتظامیہ کی جانب سے ماہرین نفسیات کے علاوہ جوگیوں، پجاریوں اور پنڈتوں کو بھی اسکول اور ہاسٹل کے دورے کی دعوت دی گئی۔
اس اقدام پر بعض میڈیا حلقوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات بچوں میں پہلے سے موجود خوف اور توہم پرستی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جبکہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے نفسیاتی ماہرین کی مدد اور طلبہ کی مناسب کونسلنگ کو ترجیح دینی چاہیے۔
نوٹ: واقعے سے متعلق مافوق الفطرت دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی، جبکہ حکام اور ماہرین نے ذہنی دباؤ، خوف اور اجتماعی نفسیاتی کیفیت کو ممکنہ وجوہات میں شامل کیا ہے۔
