بوسنیا میں پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے تقریباً 100 شہری گرفتار

(ویب ڈیسک) بوسنیا اور ہرزیگووینا میں حکام نے یورپی یونین کے رکن ملک کروشیا کی جانب سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے تقریباً 100 تارکین وطن کو گرفتار کرلیا۔
بوسنیا کی بارڈر پولیس کے مطابق بدھ کے روز شمالی بوسنیا کے علاقے بوسٹریجا میں کارروائی کے دوران تارکین وطن کے دو گروپوں کو حراست میں لیا گیا۔
پولیس کے مطابق پہلے گروپ میں 40 پاکستانی اور 23 بنگلہ دیشی شہری شامل تھے، جبکہ اسی علاقے سے افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے مزید 33 تارکین وطن کو بھی گرفتار کیا گیا۔
کارروائی کے دوران پولیس نے ساوا دریا عبور کرنے کے لیے استعمال ہونے والی دو کشتیاں بھی قبضے میں لے لیں، جبکہ مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث دو افراد کی شناخت بھی کی گئی۔
بوسنیا یورپ جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے معروف بلقان روٹ پر واقع ہے۔ یہ راستہ غیر قانونی طور پر یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے، جس میں بوسنیا سے کروشیا کے راستے یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش بھی شامل ہے۔
حکام کی جانب سے حالیہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یورپ کی بیرونی سرحدوں پر غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف نگرانی اور کارروائیاں جاری ہیں۔
