موجودہ نظام مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہا، ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے: احسن اقبال

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام مؤثر انداز میں عوامی ضروریات پوری نہیں کر رہا، اس لیے ہر موجودہ صوبے کو تین حصوں میں تقسیم کرنے پر قومی سطح پر بحث ہونی چاہیے۔
احسن اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں انتظامی ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے ناگزیر ہوگا۔
وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ صوبوں کے معاملے پر ایک جائزہ کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کے ذریعے قومی و سیاسی سطح پر باقاعدہ بحث کا آغاز کیا جائے۔ ان کی تجویز کے تحت موجودہ چاروں صوبوں کو تین، تین حصوں میں تقسیم کرکے ملک میں مجموعی طور پر 15 صوبے قائم کیے جا سکتے ہیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے معاملے پر کسی بھی فیصلے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، کیونکہ یہ ایک اہم آئینی اور انتظامی معاملہ ہے۔
دوسری جانب گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے نئے صوبوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام اس معاملے پر انتہائی حساس ہیں اور وہ نئے صوبوں کے قیام کے حامی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد سے ملک مختلف تجربات سے گزرتا رہا ہے، جبکہ بلدیاتی انتخابات کی بات بھی طویل عرصے سے ہوتی رہی ہے لیکن ان کا انعقاد باقاعدگی سے نہیں ہو سکا۔
گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی بھرپور تیاری کے ساتھ ان میں حصہ لے گی۔
احسن اقبال نے یہ خیالات لاہور ایکسپو سنٹر میں 23ویں تھری پی پاکستان نمائش کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھی بیان کیے، جہاں پلاسٹک، پرنٹنگ اور پیکیجنگ کے شعبوں سے وابستہ ملکی و غیر ملکی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسی نمائشیں پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر سافٹ امیج اجاگر کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی شعبوں میں ترقی کے امکانات سامنے لانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
