نیپال-تبت سرحد پر تباہی، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 362 افراد جاں بحق، 1400 سے زائد لاپتا

کٹھمنڈو(ویب ڈیسک): نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 362 افراد جاں بحق جبکہ 1400 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں کیچڑ اور ملبے کے اندر زندہ بچ جانے والوں اور لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ شدید سیلابی ریلے نے کئی دیہات، مکانات، سڑکوں، پلوں اور گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق اس تباہی کی بڑی وجہ گلیشیئر کا ٹوٹنا قرار دی جا رہی ہے، جس کے بعد برف، پانی، کیچڑ اور ملبے کا ایک انتہائی طاقتور ریلا پہاڑی علاقوں سے نیچے کی جانب آیا۔
ماہرین کے مطابق سیلابی ریلے نے تقریباً 170 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کیا اور نیپال کے مختلف علاقوں کو متاثر کیا۔ ماہرین نے اس صورتحال کو ’’اندرونِ ملک سونامی‘‘ سے تشبیہ دی ہے۔
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق لاپتا افراد میں بڑی تعداد غیر ملکی سیاحوں کی بھی ہے۔ ان میں بھارت، آسٹریلیا، برطانیہ، ملائیشیا، نیدرلینڈز، پرتگال، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا اور امریکا کے شہری شامل ہیں۔
متاثرہ افراد میں وہ ہندو یاتری بھی شامل ہیں جو تبت میں واقع مقدس ماؤنٹ کیلاش کی یاترا کے لیے گئے ہوئے تھے۔
نیپالی حکام کے مطابق ملک میں 910 افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا، جن میں 517 غیر ملکی سیاح شامل ہیں۔ چین نے بھی بتایا ہے کہ نیپال میں اس کے 100 شہری لاپتا ہیں۔
چین کے تبت خودمختار علاقے میں بھی مٹی کے تودے گرنے سے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق وہاں 3 افراد ہلاک جبکہ 558 افراد لاپتا ہیں، جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ حکام نے ریسکیو آپریشن کے لیے سینکڑوں اہلکاروں، تربیت یافتہ کتوں اور کشتیوں کو بھی استعمال کیا ہے۔
نیپال میں فوج اور امدادی ٹیمیں ملبے اور کیچڑ میں دبے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ متعدد علاقوں میں سڑکیں اور پل تباہ ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے بے گھر ہونے والے خاندانوں کو فوری امداد فراہم کرنے اور بند راستے کھولنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
بین الاقوامی فیڈریشن آف ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے بھی متاثرین کے لیے ہنگامی امدادی سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس میں کمبل، ابتدائی طبی امداد کا سامان، اسٹریچر اور دیگر ضروری اشیا شامل ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مزید سیلاب کا خطرہ برقرار ہے۔ دشوار گزار پہاڑی علاقے، تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور غیر مستحکم آبی ذخائر امدادی ٹیموں کے لیے بڑی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
حکام کی جانب سے اس وقت متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
