پیوٹن کی یورپی ممالک کے جہاز ضبط کرنے کی دھمکی

(ویب ڈیسک)روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یورپی ممالک کی جانب سے روسی تیل لے جانے والے مبینہ ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کے جہازوں کے خلاف کارروائی اور ضبط کیے گئے سامان کی فروخت کے منصوبوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے یورپی ممالک کے بحری جہاز ضبط کرنے کی دھمکی دے دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کئی یورپی ممالک نے روسی تیل لے جانے والے ان بحری جہازوں کو روکنے کی کارروائیاں کی ہیں جو روس کے خلاف عائد یورپی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ گزشتہ ماہ منظور کی گئی نئی پابندیوں کے تحت یورپی یونین کے رکن ممالک کو ضبط کیے گئے جہازوں سے تیل یا دیگر سامان فروخت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
روس نے ان اقدامات پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ صدر پیوٹن نے یورپی اقدامات کو ’’قزاقی اور غنڈہ گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس کو بھی اسی انداز میں جواب دینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ روس ضرورت اور مناسب سمجھنے کے مطابق جہاں بھی ضروری ہوا، وہاں کارروائی کرے گا۔
پیوٹن نے یہ بیان روس کے مشرق بعید میں بحری مشقوں کی نگرانی کے دوران روسی جنگی جہاز ’’واریاغ‘‘ پر سوار ہو کر دیا۔ یہ مشقیں سخالین کے قریب جاری ہیں۔
دوسری جانب سویڈش عدالت کی دستاویزات کے مطابق اسٹاک ہوم نے رواں ماہ کے آغاز میں ایک روسی جہاز یوکرین کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر شبہ ہے کہ وہ مقبوضہ یوکرین سے اناج منتقل کر رہا تھا۔
خطے میں کشیدگی بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ روسی بحری مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں بھی ایک ہفتے بعد شروع ہونے والی ہیں، جن میں شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ حملے کی صورت میں دفاعی حکمت عملی کی مشق کی جائے گی۔
یوکرین اور جنوبی کوریا کی جانب سے روس اور شمالی کوریا کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
