8 ماہ میں کیا بدلا؟ پرشانت کشور نے بی جے پی سے بینک پور نشست چھین لی، 5 اہم عوامل

نئی دہلی (ویب ڈیسک): بہار کی سیاست میں بڑا سیاسی اپ سیٹ سامنے آیا ہے جہاں جن سوراج پارٹی کے سربراہ پرشانت کشور نے ضمنی انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی روایتی نشست بینک پور جیت لی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف 8 ماہ قبل نومبر 2025 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے اسی نشست پر 52 ہزار ووٹوں کے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی، لیکن اب ضمنی انتخاب میں پرشانت کشور کی جماعت نے بی جے پی امیدوار کو 19 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دے دی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اتنے کم عرصے میں نتائج کے بدلنے کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما رہے ہیں۔
2025 کے اسمبلی انتخابات میں پرشانت کشور نے خود انتخاب نہیں لڑا تھا، لیکن ضمنی انتخاب میں ان کی براہِ راست انتخابی مہم، عوامی رابطہ اور ذاتی مقبولیت نے جن سوراج کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
بینک پور طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم ضمنی انتخاب میں پارٹی اپنے روایتی ووٹرز کو پہلے کی طرح متحرک نہ کر سکی، جس کے باعث ووٹ بینک میں کمی دیکھنے کو ملی۔
مقامی مسائل بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوئے۔ روزگار، ترقیاتی کام، شہری سہولیات اور عوامی مسائل ایسے معاملات تھے جنہوں نے ووٹرز کے فیصلے کو متاثر کیا اور جن سوراج نے انہیں اپنی مہم کا اہم حصہ بنایا۔
سیاسی ماہرین کے مطابق ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت کے لیے کامیابی ہمیشہ یقینی نہیں ہوتی۔ مقامی ناراضی، امیدوار کی مقبولیت اور انتخابی ماحول اکثر نتائج تبدیل کر دیتے ہیں۔
بینک پور نشست کئی برسوں سے بی جے پی کے پاس رہی تھی اور یہ نشست سابق رکن اسمبلی کے خالی کرنے کے بعد ضمنی انتخاب میں گئی۔ بی جے پی کی شکست کو پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق بینک پور کا نتیجہ صرف ایک نشست کا نقصان نہیں بلکہ بہار میں بدلتے ہوئے سیاسی رجحانات کا ایک اہم اشارہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔
