امریکی سفیر کے کشمیر سے متعلق بیان پر پاکستان کا سخت ردعمل

(ویب ڈیسک):پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق امریکی سفیر کے حالیہ بیان پر امریکا سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق امریکی سفیر کی جانب سے جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینا حقائق کے منافی ہے، جسے پاکستان نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان نے اپنے احتجاج میں مؤقف اختیار کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکی سفیر کا بیان امریکا کے کشمیر سے متعلق طویل عرصے سے ریکارڈ شدہ مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان کے مطابق اس نوعیت کے بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کے امریکی دعوے سے بھی متصادم ہیں۔
پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سمیت باہمی تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کو بھی سراہا۔ تاہم، اسلام آباد نے امریکا پر زور دیا کہ اس کے سرکاری اور عوامی بیانات کشمیر کی متنازع حیثیت کے حوالے سے واضح بین الاقوامی مؤقف کے مطابق ہونے چاہئیں۔
جموں و کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی دہائیوں سے تنازع جاری ہے۔ دونوں ممالک اس خطے پر مکمل دعویٰ رکھتے ہیں اور 1947 کے بعد اس معاملے پر متعدد جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کے لیے رائے شماری کا حق دینے کی بات کی گئی تھی، تاہم یہ عمل اب تک مکمل نہیں ہو سکا۔
اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے دسمبر 2023 میں اس اقدام کو برقرار رکھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازع پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں۔ 2019 میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک چاہیں تو وہ اس معاملے کے حل میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد بھی امریکی حکومت نے کشمیر کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کا حوالہ دیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور قابل قبول حل ضروری ہے۔
