برطانیہ سے ایک سال میں 2 لاکھ 46 ہزار شہری بیرونِ ملک منتقل، نوجوانوں میں رجحان بڑھ گیا

(ویب ڈیسک): برطانیہ میں نوجوان اور ہنرمند افراد کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال تقریباً 2 لاکھ 46 ہزار برطانوی شہری ملک چھوڑ گئے، جبکہ واپس آنے والے افراد کی تعداد اس کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم رہی۔
رپورٹ کے مطابق 2022 کے بعد سے برطانیہ سے جانے والے شہریوں اور واپس آنے والوں کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔ بیرونِ ملک جانے والوں میں بڑی تعداد 35 سال سے کم عمر نوجوانوں کی ہے، جو بہتر روزگار، کم اخراجات اور زندگی کے بہتر مواقع کی تلاش میں دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔
برطانیہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، ٹیکسوں کا بوجھ، مکانوں کے بلند کرائے اور خریداری کے بڑھتے اخراجات نوجوانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم کے اخراجات بھی بہت سے نوجوانوں کو بیرونِ ملک بہتر مواقع تلاش کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح 5.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ گریجویٹس کے لیے دستیاب ملازمتوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
برٹش کونسل کی ایک اسٹڈی کے مطابق 18 سے 30 سال کی عمر کے 72 فیصد برطانوی نوجوان مختصر یا طویل مدت کے لیے بیرونِ ملک رہنے اور کام کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق نوجوان نسل خاص طور پر ایسے ممالک کو ترجیح دے رہی ہے جہاں روزگار کے بہتر مواقع، مناسب آمدنی، نسبتاً کم رہائشی اخراجات اور پیشہ ورانہ ترقی کے امکانات موجود ہوں۔
رپورٹ کے مطابق کینیڈا اور آسٹریلیا برطانوی نوجوانوں کے لیے نمایاں متبادل منزلوں کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ ان ممالک میں روزگار اور ہنرمند افراد کے لیے مواقع نوجوان برطانوی شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہے ہیں۔
ماہرین نے برطانیہ سے نوجوانوں کے اس اخراج کو تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے تاہم اسے مکمل طور پر برین ڈرین قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ ان کے مطابق بیرونِ ملک جانے والے افراد میں سے بعض مستقبل میں واپس بھی آ سکتے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر تعلیم اور روزگار کے لیے نقل مکانی اب ایک عام رجحان بنتی جا رہی ہے۔
