راس الخیمہ پولیس میں 41 سال خدمات انجام دینے والے پاکستانی شہری ریٹائر ہوگئے

(ویب ڈیسک): متحدہ عرب امارات کی راس الخیمہ پولیس میں 41 سال تک خدمات انجام دینے والے 60 سالہ پاکستانی شہری منیر حسین منیر ریٹائر ہوگئے۔ انہوں نے 1986ء میں متحدہ عرب امارات کی وزارتِ داخلہ میں ملازمت شروع کی اور اپنے پورے کیریئر کے دوران راس الخیمہ پولیس کے جنرل ہیڈکوارٹرز میں یونیفارم سپروائزر اور فورمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔
منیر حسین 19 سال کی عمر میں روزگار کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات پہنچے تھے۔ چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنی ملازمت کے دوران انہوں نے پانچ مختلف کمانڈرز ان چیف کے ساتھ کام کیا اور راس الخیمہ پولیس کے نظام کو روایتی دستی طریقۂ کار سے جدید تکنیکی اور ڈیجیٹل نظام میں منتقل ہوتے دیکھا۔
اپنے ایک انٹرویو میں منیر حسین نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اب ان کے لیے گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کی چار دہائیاں اسی ملک میں گزاریں، اپنا کیریئر بنایا اور اپنے بچوں کی پرورش کی۔ ان کے مطابق ان کی اہلیہ نے بھی ان کے کیریئر اور خاندانی ذمہ داریوں میں بھرپور تعاون کیا۔ ان کی بڑی بیٹی امریکا میں مقیم ہیں، بیٹے نے جرمنی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی جبکہ چھوٹی بیٹی پاکستان میں ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔
منیر حسین نے بتایا کہ انہوں نے دنیا کے مختلف ممالک کا سفر کیا، تاہم متحدہ عرب امارات سے اپنی طویل وابستگی اور یہاں سے جڑی یادوں کے باعث انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اسی ملک میں رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔
راس الخیمہ پولیس میں ان کی طویل خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں انہیں 10، 20 اور 30 سالہ خدمات کے سرٹیفکیٹس کے علاوہ گولڈن جوبلی سرٹیفکیٹ اور یونین سروس ایوارڈ بھی دیا گیا۔ ان کے کیریئر کے یادگار مواقع میں ایکسپو 2020ء کے دوران خدمات انجام دینا اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے رمضان المبارک کے دوران دو مرتبہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
ملازمت کے آخری روز ڈائریکٹر جنرل آف ریسورسز اینڈ سپورٹ سروسز بریگیڈیئر جنرل محمد عبید الخاطری نے انہیں یادگاری شیلڈ پیش کی۔ منیر حسین نے پولیس کی اعلیٰ قیادت، بالخصوص کمانڈر ان چیف میجر جنرل علی عبداللہ بن علوان النعیمی کا شکریہ ادا کیا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان واپس جانے کے بجائے منیر حسین نے راس الخیمہ میں ہی قیام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنا ذاتی کاروبار شروع کرنے کے ساتھ ساتھ اماراتی معاشرے کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔(فوٹو AI)
