اسرائیل جانے والی پرواز میں پائلٹ نے معاون پائلٹ پر چاقو سے حملہ کردیا

(ویب ڈیسک):اسرائیل جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں پائلٹ نے مبینہ طور پر اپنے معاون پائلٹ پر چاقو سے حملہ کردیا، جس کے بعد طیارہ چند سیکنڈز میں ہزاروں فٹ نیچے آ گیا اور مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مطابق بدھ کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز ایف زیڈ 1073 میں پائلٹ نے اپنے معاون پائلٹ کو زخمی کیا اور ممکنہ طور پر طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ طیارے میں عملے سمیت 174 افراد سوار تھے۔
فلائٹ ریڈار24 کے اعداد و شمار کے مطابق بوئنگ 737 طیارہ صرف 29 سیکنڈ میں تقریباً 14 ہزار 125 فٹ نیچے آ گیا۔ مسافروں کے مطابق اس دوران طیارہ شدید جھٹکوں کے ساتھ تیزی سے نیچے کی جانب گیا اور لوگوں میں چیخ و پکار شروع ہوگئی۔
ایک 17 سالہ مسافر نے بتایا کہ ابتدا میں اسے لگا کہ طیارے میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی ہے، تاہم بعد میں مسافروں کی چیخوں سے معلوم ہوا کہ کاک پٹ میں چاقو سے حملہ کیا گیا ہے۔ ایک اور مسافر کے مطابق ایک خاتون نے چیخ کر بتایا کہ کوئی شخص کاک پٹ میں کسی کو چاقو مار رہا ہے، جس کے فوراً بعد طیارہ زمین کی جانب تیزی سے جانے لگا۔
مسافروں اور عملے کے ارکان نے کاک پٹ میں داخل ہو کر حملہ آور پائلٹ کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق مسافروں کے ایک گروپ نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی اور صورتحال کو قابو کیا۔
اسرائیلی حکام نے بھارتی شہری اور پرواز کے کپتان سمت مچھر کے کردار کو بھی سراہا، جو حملے میں زخمی ہونے کے باوجود کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد مسافروں اور عملے کو اندر داخل ہو کر طیارے کو محفوظ بنانے کا موقع ملا۔
بنیامین نیتن یاہو نے کپتان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طیارے میں موجود 174 افراد کی جانیں بچائیں۔ بھارتی سفارت خانے کے مطابق کپتان سمت مچھر سعودی عرب کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔
واقعے کے بعد طیارے کو سعودی عرب کے تبوک ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ بعد ازاں مسافروں کو خصوصی پرواز کے ذریعے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔
فلائی دبئی نے واقعے کی تحقیقات کے دوران اسرائیل کے لیے اور اسرائیل سے تمام پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ واقعے کو ممکنہ دہشت گرد حملہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم تحقیقات مکمل ہونے تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ کسی ملک یا دہشت گرد تنظیم نے تاحال اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق حملہ کرنے والا پائلٹ سعودی عرب میں زیر حراست ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ عمان کا شہری ہے۔
