کینیا میں ٹاٹا کمپنی پر صدر روتو کی تنقید، وسائل بیرونِ ملک لے جانے کا الزام

(ویب ڈیسک):کینیا کے صدر ولیم روتو نے بھارتی کاروباری گروپ ٹاٹا کی کینیا میں سرگرمیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کمپنی ملک کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھا کر انہیں بیرونِ ملک منتقل کر رہی ہے۔
ٹاٹا کمپنی کینیا کے علاقے میگادی (Magadi) میں طویل عرصے سے سرگرم ہے، جہاں کمپنی کے مطابق اس کے مختلف سماجی منصوبوں سے تقریباً 30 ہزار افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ ان منصوبوں میں صاف پانی کی فراہمی، صحت، تعلیم، بنیادی ڈھانچے، سڑکوں اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی شامل ہے۔
کمپنی کی جانب سے میگادی کے مقامی لوگوں کے لیے صحت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں اقدامات کیے گئے ہیں، جبکہ علاقے میں بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے بھی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
تاہم صدر ولیم روتو کا کہنا ہے کہ کینیا کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد کا بڑا حصہ ملک سے باہر منتقل ہو رہا ہے اور مقامی سطح پر وسائل سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے مزید سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈیشن کی ضرورت ہے۔
میگادی علاقہ خاص طور پر سوڈا ایش (Soda Ash) کے ذخائر کے حوالے سے اہم ہے، جو شیشہ سازی، کیمیکل اور دیگر صنعتی شعبوں میں استعمال ہوتا ہے۔
صدر روتو کے مؤقف نے کینیا میں غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے قدرتی وسائل کے استعمال، مقامی سرمایہ کاری اور عوام کو حاصل ہونے والے معاشی فوائد کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
ٹاٹا گروپ کی جانب سے میگادی میں سماجی منصوبوں کو مقامی آبادی کے لیے اپنی طویل مدتی وابستگی کا حصہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ کینیا کی حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ ملک کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی دولت کا زیادہ حصہ کینیا اور اس کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔
